شوگر کے جن پر کیسے قابو پایا جائے؟ علامات اور علاج

شوگر یعنی کہ ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جو دائمی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بیماری آپ کی زندگی کے ساتھ ساتھ ہی رہتی ہے۔ ذیابیطس کا مسئلہ روز بروز بہت گبھیر ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ یہ مرض صرف بڑی عُمر میں ہوتا ہے۔ مگر اب تو یہ کسی بھی عُمر کے افراد میں پایا گیا نظر آتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف پاکستان میں ہر چوتھا فرد اس مرض کا شکار ہے۔ اس مرض سے متاثرہ افراد کو باقی بہت سی بڑی بڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں چار میں سے ایک فرد شوگر کے مرض میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

آخر یہ مرض ہوتا کیسے ہے؟؟

شوگر کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ تبخیرِ معدہ کی وجہ سے بھی ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر معدہ میں گیس کی وجہ سے یہ مرض لاحق ہو جائے تو اس کے لیے معدہ صحیح کرنے والی دیسی ادویات کا استعمال اس مرض کو کنٹرول کر پاتا ہے۔ یا پھر بادی خوراک کھانے سے پرہیز کیا جائے تو اس مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے بغیر شوگر کنٹرول کرنے والی گولیاں کھانے کے۔

جب کھانا کھایا جاتا ہے تو کھانے سے کاربوہائیڈریٹس یعنی نشاستہ پیدا ہوتا ہے۔ ہمارا جسم اس نشاستے کو گلوکوز میں بدل دیا ہے اور یہ گلوکوز خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ لیکن جب ہمارا جسم اس گلوکوزکو خون میں شامل نہ کر پائے تو اس کے نتیجے میں شوگر کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔

شوگر کی کیا علامات ہوتی ہیں؟؟

پیشاب کا معمول سے زیادہ آنا، خاص کر رات کے وقت

وزن میں کافی کمی ہو جانا

بہت زیادہ تھکاوٹ ہو جانا

سستی اور کاہلی ہونا خاص کر کھانے کے بعد بہت سستی ہونا اور بے حد نیند کا آنا

بھوک کا زیادہ جلدی جلدی لگنا

پیاس شدت سے لگنا

ہاتھ یا پاؤں میں سوئیاں سی چبھنا

جلد پر خُشکی ہونا

آنکھوں کا جلدی جلدی خراب ہو جانا یا نظر کی کمزوری

زخموں کا جلدی نہ بھرنا

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین خوراک

پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنی زندگی کی روز مرہ کی روٹین بدل کر اس مرض پر قابو پا سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی خوراک میں زیادہ سلاد کا زیادہ استعمال کریں تو یقین کریں کہ آپ اس مرض پر 100 تو نہیں لیکن 80 فیصد تک کنٹرول پا سکتے ہیں اور اگراس کے ساتھ باقی خوراک پر بھی کنٹرول کیا جائے اور مناسب مقدار میں کھایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ چہل قدمی کی جائے تو یقیناً آپ 100 فیصد اس مرض پر قابو پا سکتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کونسی غذائیں بہترین ہیں؟؟ یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے اور یہی سوال سب سے اہم ہے جس کا جواب ہی اس مرض سے نجات حاصل کرنے کے لیے کافی ہے، لیکن اگر ان غذاؤں کو زندگی کا حصہ بنایا جائے تو یقیناً ذیابیطس کے مرض کے جن کو قابو میں کیا جا سکتا ہے۔ اور وہ لوگ جو اس مرض سے محفوظ ہیں، وہ ان غذاؤں کے استعمال سے خود کو اس مرض کے جن سے ہمیشہ کے لیے بچا سکتے ہیں اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ وہ غذائیں درج ذیل ہیں۔

مونگ پھلی

اخروٹ

بادام

بند گوبھی

بھنڈی

لہسن

مولی

ہری مرچ

لال مولی

شملہ مرچ

شلجم

چقندر

دیسی توری

ٹماٹر

کریلا

پیاز

لیموں

گاجر

میتھی

پودینہ

دار چینی

کھیرا

بینگن

پالک

سلاد کے پتے

انڈے کی سفیدی

جو

خشک میووں کا استعمال

ادرک

دالیں اور بیج

مٹر

تخم ملنگا

مچھلی

اس کے علاوہ آپ چہل قدمی کریں۔ اگر آپ کا کام زیادہ بیٹھنے والا ہے تو کم از کم ایک یا دو ٹائم کی چہل قدمی کو زندگی کا حصہ ضرور بنائیں۔

شوگر کا علاج

جامن کی کٹھلیوں کو خشک کر کے پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔ کسی شیشی میں رکھ لیں اور اس میں سے 5 گرام صبح نہار مُنہ پانی کے ساتھ لیں اور 5 گرام ہی شام 5 بجے کے قریب لے لیں۔ اس سے آپ کی شوگر کنٹرول رہے گی۔ یاد رہے کہ جامن کی گٹھلیاں چھاؤں میں خشک کرنے ہیں۔

کریلے کو اچھی طرح دھو کر چھیل لیں اور پھر ان چھلکوں کا رس نچوڑ لیں، یا پھر کریلوں کو کچل کر ان کو نچوڑ کر رس نکال لیں،اور روزانہ 25 ملی گرام یہ رس صبح اور شام پی لیں۔ کریلے تو ایک سو ایک بیماریوں کا علاج ہیں۔اور اس مرض میں تو کریلے بہت ہی زیادہ مفید ہیں۔

نیم کی 50 گرام کونپلیں لیں اور ان کو 50 گرام پانی میں ڈال کرگرائنڈ کر لیں۔ اب اس پانی کو چھان کر صبح نہار منہ یا پھر ناشتہ کرنے کے ایک گھنٹہ بعد پی لیں۔ اس سے اس مرض میں بہت افاقہ ہو گا۔
لوکاٹ کے 7 پتے لیں ایک کپ پانی میں اچھی طرح اُبال لیں اور اس پانی کے ساتھ جامن کی گٹھلی کا پاؤڈر صبح نہار مُنہ لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *