ایک کائنات سے دوسری کائنات کا راستہ؟؟ سائنسدان سر پکڑ کر بیٹھ گئے

یہ تو آپ نے ضرور ہی سُن رکھا ہو گا

یہ ایک مصرع ہمیں چیخ چیخ کر کائنات کی تخلیق کو سمجھنے پر اکساتا ہے۔
اس بلاگ میں ہم بلیک ہولز کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کیا ہیں اور آخر کس طرح سے بنتے ہیں؟
کیا آپ بھی بلیک ہولز کو سمجھنا چاہتے ہیں؟؟ تو پھر یہ آرٹیکل ضرور پڑھیں۔
تا کہ آپ اس پراسرار دنیا کو بھی سمجھ پائیں اور اس دنیا میں ہونے والے پراسرار عوامل کو بھی جان پائیں۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں کہ آخر بلیک ہولز ہوتے کیا ہیں اور یہ کس قدر بڑے ہوتے ہیں؟

تو پھر تصور کریں کہ آپ بہت بڑے گھر میں بیٹھے ہیں اور گھر کے کسی کونے میں پانی سے بھرا ایک جگ پڑا ہے، تو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پورے گھر کے مقابلے میں اس جگ کی کیا حیثیت ہے؟ اور یہ جگ پورے گھر میں کتنی جگہ گھیرے ہوئے ہے؟

اگر آپ اس بات کو سمجھ چکے ہیں تو پھر بلیک ہول کا کنسیپٹ بھی آپ کو آسانی سے سمجھ آ جائے گا۔

اگر آپ رات کے وقت آسمان کو دیکھیں اور تمام نظر آنے والے ستاروں اور سیاروں کو کمرے میں رکھے اس جگ کے برابر تصور کر لیں تو پھر جگ کے مقابلے میں پورا گھر بلیک ہول کی مانند ہو گا۔ یعنی بلیک ہول تمام نظر آنے والے ستاروں اور سیاروں سے بہت ہی بڑا ہوتا ہے۔

مطلب یہ کہ بلیک ہول کائنات کی بہت ساری کہکشاؤں سے بھی بہت بڑا ہے۔

بلیک ہول آخر بنتے کس طرح سے ہیں؟؟

ہم جانتے ہیں کہ سورج ایک بہت بڑا ستارہ ہے مگر کیا اس طرح کا ستارہ ایک ہی ہے؟؟

یقیناً نہیں۔
کائنات اس جیسے اور اس سے بھی بڑے بے شمار ستاروں سے بھری پڑی ہے۔

اگر ان میں سے کوئی ستارہ اپنے اندر ہونے والے دھماکوں کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے تو اس کے نتیجے میں بہت بڑے بڑے شگاف پڑ جاتے ہیں ، انہیں سوراخوں کو بلیک ہولز کہتے ہیں۔
یہ بلیک ہولز سورج سے سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں یا کروڑوں نہیں بلکہ اربوں گنا بھی بڑے ہو سکتے ہیں۔

آسمان پر نظر آنے والے اربوں ستارے، سیارے اور ایسے بے شمار بلیک ہولز مل کر ایک گلیکسی بناتے ہیں جسے ہم کہکشاں بھی کہتے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں کائنات میں پائے جانے والے بلیک ہولز کی طرف۔
سائنسدانوں نے ہماری کہکشاں کو ملکی وے کا نام دیا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہماری کہکشاں یعنی ملکی وے میں لاکھوں بلیک ہولز موجود ہیں۔

حال ہی میں ماہر فلکیات نے کائنات کے سب سے بڑے بلیک ہول کو دریافت کر لیا ہے اس بلیک ہول کا حجم ناقابل یقین ہے۔ اس بلیک ہول کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سورج سے بھی 30 ارب گنا بڑا ہے۔

یہ تحقیق برطانیہ کی یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے کی جس کے سربراہ مشہور ماہر فلکیات ڈاکٹر جیمز تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات پر یقین کرنے میں مشکل ہو رہی ہے کہ یہ چیز کتنی بڑی ہے۔
اس بلیک ہول کو سائنسدانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے دریافت کیا ہے۔ وہ اس ٹیکنالوجی کو گریویٹیشنل لیزنگ کہتے ہیں۔ اس ٹیکنیک میں سائنسدان روشنی کی اس مقدار کو ناپتے ہیں جو بلیک ہول اپنے اندر کھینچتی ہے۔

سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ کہکشاؤں کے مرکز میں پائے جانے والے یہ بلیک ہولز کہکشاں کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور متحرک رکھتے ہیں اور ان کہکشاؤں میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم وہ ابھی تک یہ نہیں بتا پائے کہ بلیک ہول کے اندر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلیک ہول ہر چیز کو اپنے اندر نگل جاتا ہے۔
بلیک ہول کو اس چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس کے اندر آنے والی چیز بڑی ہے یا پھر چھوٹی اور اس پر کوئی الیکٹرک چارج ہے یا نہیں۔

سائنسدانوں کا پہلے یہ خیال تھا کہ بلیک ہول خلا میں ایک ایسا علاقہ ہوتا ہے جہاں مادہ بہت ہی زیادہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور یہاں کشش ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز حتیٰ کہ روشنی بھی یہاں سے نہیں گزر سکتی مگر کوانٹم میکینکس کے اصولوں کے مطابق کائنات کی تمام خلاء میں مختلف چارج والے بے شمار پارٹیکل اور اینٹی پارٹیکل کے جوڑے پائے جاتے ہیں۔ یہ مختلف چارج والے پارٹیکلز آپس میں مل کر ایک دوسرے کا وجود ختم کر دیتے ہیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی جوڑے کا ساتھی پارٹیکل بلیک ہول میں گر جائے اور دوسرا اکیلا رہ جائے۔ اس صورت میں بچ جانے والا پارٹیکل بھی اپنے ساتھی کے پیچھے بلیک ہول میں جا کر گر سکتا ہے۔
اور پھر ہو سکتا ہے کہ لامتناہی فاصلہ طے کرنے کے بعد بلیک ہول سے نکلنے والی روشنی کی شکل میں نمودار ہو۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ بلیک ہول اتنا بھی تاریک نہیں ہوتا جتنا کہ نام سے لگتا ہے اور یہ بھی کہ بلیک ہول میں جانے والی چیزیں باہر نکل کر کسی دوسری کائنات کی جانب بھی جا سکتی ہیں۔ یعنی یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک کائنات کو دوسری کائنات سے ملانے کا ایک پوشیدہ راستہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
سائنسدان ایک کائنات کو دوسری کائنات سے ملانے والے انہی راستوں کی اسی پہیلی کو سلجھانے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں اور انہی راستوں کو پورٹلز کا نام دیتے ہیں۔
امید ہے یہ انفرمیشن آپ کو پسند آئی ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *