پیٹ کی گیس یا سینے کی جلن کا فوری علاج

تبخیر معدہ یا پیٹ میں گیس کی اصطلاح تو عموما آپ نے سن ہی رکھی ہو گی۔ اس کی بہت سی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں مگر عموما اس کا سبب جلدی جلدی کھانا کھانا، کھانا کھانے کے دوران باتیں کرنے رہنا یا پھر بازار میں ملنے والے کاربونیٹڈ مشروبات کا پینا بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک عام وجہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح نہ دھونا بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ بیکٹیریا وغیرہ جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور گیس کا سبب بنتے ہیں۔ ایک اور عام وجہ مرچ مصالحے دار اور چٹ پٹی چیزوں کا بے دریغ استعمال ہے۔
اس کی ایک اور عام وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا کھانا۔ یعنی کہ کچھ لوگ بے تحاشا کھاتے ہیں۔ جتنی بھوک ہو اس سے بھی کہیں زیادہ پیٹ بھر کر کھا لیتے ہیں اور پھر بعد میں پیٹ اور معدے میں گیس کی وجہ سے تنگ بھی ہوتے ہیں یا پھر پیٹ یا معدے میں درد وغیرہ بھی ہو سکتی ہے اس طرح زیادہ کھانے سے۔
پیٹ میں گیس کی بات ہو رہی ہے تو اس کی ایک اہم وجہ بے وقت کھانا بھی ہے اور جب بے وقت یا بار بار کھایا جائے تو اس بھی یہ تکلیف ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ وقت بیٹھے رہنے سے بھی یہ مسئلہ درپیش آ جاتا ہے۔ اگر کھانے کے بعد چہل قدمی نہ کی جائے اور بیٹھے رہیں تو یہ پیٹ اور معدے میں گیس کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔
پیٹ میں اس طرح سے پیدا ہونے والی گیسز اگر جسم سے خارج نہ ہو پائیں تو یہ پیٹ درد، بے چینی، تکلیف ، سینے کی جلن اور پٹھوں کا کھچاؤ وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔
پیٹ کے گیس یا تبخیر معدہ کے علاج کے لئے ویسے تو کئی ایک دیسی ٹوٹکے ہیں مگر یہاں ہم چند اہم ترین کا ذکر کریں گے۔
پہلا ٹوٹکہ سونف نوے گرام، الائچی بیس گرام اور شکر 12 گرام لے لیں۔
اب ان تمام چیزوں کو باریک پیس کر سفوف بنا کر رکھ لیں اور جب بھی کھانا کھائیں تو بعد میں ایک چمچ پانی کے ساتھ متواتر لیتے رہنے سےمعدہ کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ایک اور عام نسخہ جو استعمال کیا جاتا ہے وہ سونف اور لیمن کا رس ہے۔ طریقہ کار یہ ہے کہ دو سو گرام سونف کا سفوف لے لیں اور لیموں کے رس میں بھگو کر رکھ دیں۔ اس کو خشک ہونے دیں یاد رکھیں کہ اس کو دھوپ میں نہیں سُکھانا۔ جب یہ مکسچر خشک ہو جائے تو اس کو اچھی طرح پیس کر رکھ لیں۔ طریقہ کار یہ ہے کہ ہر کھانا کھانے کے بعد ایک چمچ لے لینا ہے۔ مسلسل استعمال کریں اور اس کے رزلٹس اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں۔
مزید بھی ایک ٹوٹکہ کچھ اس طرح ہے کہ کھانے کے بعد ایک کپ پانی میں ایک چمچ لیمن کا جوس آدھا چمچ بیکنگ سوڈا، دو الائچیاں اور تھوڑا سا قہوہ بنا لیں۔ ہر کھانے کے بعد استعمال کرنے سے بے حد مفید نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ الائچی کے پاؤڈر کو ایک گلاس پانی کے ساتھ پینے سے بھی گیس کا مسئلہ فورا حل ہو جاتا ہے۔
کھانے کے بعد چہل قدمی کو معمول بنا لینے سے بھی گیس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ کھانا آرام آرام سے کھانا چاہیے اور کھانے کے بعد پانی بھی نہیں پینا چاہیے۔
گیس سے چھٹکارا پانے کے لئے کھانوں میں ہلدی کا استعمال بھی بہترین عمل ہے۔ اس لئے کوشش کرنا چاہئے کہ کھانوں میں ہلدی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔
زیادہ مرچ مصالحوں والی چیزوں سے پرہیز اور کاربونیٹڈ مشروبات سے کنارہ کشی بھی گیس کے مسائل پر قابو پانے میں بے پناہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔
سبز چائے بھی گیس کو بھگانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر گیس کی وجہ سے پیٹ درد بھی ہو رہا ہو تو ایک کپ سبز چائے کا بنائیں اور اس کو ابالنے کے دوران تین سے چار الائچیاں ڈالنا مت بھولیں۔ یہ چائے پینے سے پیٹ درد بھی غائب ہو جائے گا ۔
اس کے علاوہ اگر کھانے کے بعد تھوڑی بہت چہل قدمی کر لی جائے تو پیٹ اور معدے کی درد یا گیس وغیرہ سے بچا جا سکتا ہے۔ ویسے بھی یہ تو اسلام میں بھی فرمایا گیا ہے کہ کھانے کے بعد کم سے کم چالیس قدم ضرور چلیں۔ اور ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام میں ہر بات کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے، اگر کسی بات کا حکم دیا گیا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہے اور اگر کسی بات سے منع فرمایا گیا ہے تو وہ کام کرنے کے نقصانات ہوتے ہیں تبھی منع فرمایا گیا ہے۔ اور اسلام میں اعتدال کا حکم ہے۔ کھانا بھی اعتدال کے ساتھ کھانا چاہیے، اگر ہم صرف اسلام کے اصولوں کے مطابق ہی زندگی بسر کر لیں تو یہی ہمیں بہت سارے مسائل سے بچا سکتا ہے۔اور ہم متوازن اور صحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں۔
یہ چند چیزیں ہمارے علم میں تھیں اگر آپ کے ذہن میں ایسی کچھ چیزیں یا ٹوٹکے ہیں تو کمنٹس کے ذریعے دوسرے لوگوں کو بھی بتائیں تا کہ وہ بھی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *